28 جُمادى الأولى 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

بنک کے توسط سے فلیٹ کی خریداری

ہمارے اس موجودہ زمانے میں بینک سے متعلق کچھ نئے معاملات معرض وجود میں آئےہیں ، انہیں میں سے ایک کاروبار بینک کی وساطت سے  فلیٹ خریدنے کا مسئلہ بھی ہے ، اس کی صورت یہہوتی ہے کہ خریدنے والا فلیٹ کی کچھ پیشگی رقم ادا کردیتا ہے پھر باقی ماندہ قیمت اس کی طرف سے بینک ادا کرتا ہے اورپھر بینک باہم طے شدہ معاہدے کے مطابق زائد رقم کے ساتھ قسطوں پر اس سے وصول کرتا ہے ، تو کیا یہ کاروبار درست ہے ؟

شریعت مطہرہ میں یہ بات طے شدہہے کہ نقد قیمت اور مقرره وقت تک کے لئے اُدھار قیمت والي تجارت دونوں طرح سے درست ہے، اور شرعی لحاظ سے متعین مدت کے بدلے میں زیادہ قیمت لینا بھی جائز ہے، جیسا کہ جمہور فقہائے کرام کا مذہب ہے، کیونکہ یہ عقد بیع مرابحہ کی ہی ایک صورت ہے، اور بیع مرابحہ شرعی لحاظ سے جائز ہے، اس بیع میں یہ شرط لگانا جائز ہے کہ مدت کے بدلے میں مزید قیمت لی جائیگی، چونکہ وقت اگرچہ حقیقت میں مال نہیںہے مگر بیع مرابحہ میں بالقصد اسی کی وجہ سے قیمت بڑھائی جاتی ہے اور متعین مدت کے بدلے میں زیادہ قیمت کی تصریح کردی جاتی ہے، اور جانبین اس پر رضامند ہوتےہیں، پھر اس عقد کے نا جائز ہونے کی کوئی علت بھی نہیںہے، اور لوگ چاہے فروخت کرنے والےہوں یا خریدنے والےہوں سب کو اس کی شدید ضرورت پڑتی ہے.

اس صورت میں بینک ایک واسطہہے جو بیچی جانے والی چیز كو یا اس کے ایک حصے كو خریدتا ہے اور واقعی طور یا حکمی طور اس کا مالک ہو جاتا ہے پھر خریدنے والا اس سے زیادہ قیمت پر ایک متعین مدت تک خرید لیتا ہے، اگرچہ اس کو کبھی کبھی قرض کا نام دیا جاتا ہے مگر در حقیقت یہ قسطوں پر خرید و فروخت کی ہی ایک صورت  ہے اور یہ جائز ہے کیونکہ فقہی قاعدہہے کہ جب سامان بیچ میں آجائے تو سود نہیںہے.

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں