4 ذو القعدة 1438 عربى | En | Fr | De | Id | Ru | Tr
مفصل تلاش
عقائد خاندان اور معاشرہ مالی معاملات آداب و اخلاق جرائم اور فیصلے مسائل رسم و رواج نت نئے مسائل و احکام عبادات
Skip Navigation Links

انتقاض الوضوء أثناء الطواف 3

طواف کے دوران جس کا وضو ٹوٹ جاے اس کیلئے کیا حکم ہے ؟ وضو کر کے طواف کا باقی حصہ پورا کرے گا یا دوبارہ نئے سرے سے طواف شروع کرے گا؟

 الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و آلہ وصحبہ و من والاہ۔۔۔ وبعد:

جمہور مالکیہ، شافعیہ، اور حنابلہ کے نزدیک طواف کے صحیح ہونے کیلئے ہر نجاست اور حدث سے پاک ہونا مطلقا شرط ہے چاہے وہ طواف قدوم ہو، طواف زیارت ہو یا الوداعی طواف ۔

 اگر بغیر طہارت کے طواف شروع کر دیا اس کا طواف باطل ہو گا اسے طواف شمار نہیں کیا جائے گا([1])

احناف کا مذہب یہ ہے کہ اگرچہ طواف کیلئے طہارت واجب ہے لیکن اس کے صحیح ہونے کیلئے طہارت شرط نہیں ہے۔جس نے بغیر طہارت کے طواف کیا اس کا طواف صحیح ہوگا لیکن جب تک وہ مکہ میں ہے اس پر اعادہ واجب ہو گا ورنہ فدیہ واجب ہو گا۔([2])

یہاں پر اعادہ کا مطلب ہے کہ دوبارہ مکمل طواف ادا کرے گا اور دوران طواف جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو وہ اپنا وہی طواف مکمل کرے گااور  اسے بھی وہی کہا جائے گا جو ابتداء بے وضو کو کہا گیا تھا۔

دوران طواف جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو اس کیلئے جائز ہے کہ وہ وضو کر کے اپنے سابقہ طواف پر بنا کرتے ہوے باقی مانندہ طواف پورا کرے گا نئے سرے دوبارہ  طواف شروع کرنے ضرورت نہیں۔

امام محمد بن حسن رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے اپنی کتاب " الحجۃ علی اهل مدينة " میں نقل کیا ہے :طواف یا صفا مروہ کی سعی کے دوران جس کا وضو ٹوٹ جائے اس نے طواف کا حصہ ادا کیا ہو یا مکمل کر چکا ہو لیکن ابھی طواف کے دو نفل ادا نہ کیے ہوں وہ اپنے طواف پر بنا کرے گا اور دو رکعتیں پڑھ لے گا اور اگر دوران طواف حدث لاحق ہوا تو بھی وضو کر کے اسی پر بنا کرے گا-([3])

امام کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جواز طواف کیلئے حدث، جنابت اور حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک طہارت فرض نہیں ہے بلکہ واجب ہے طہارت کے بغیر طواف جائز ہے اور امام شافعی رضی اللہ عنہ کے نزدیک فرض ہے اس کے بغیر طواف جائز نہیں ہے ان کی دلیل یہ کہ نبی اکرم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :" طواف نماز ہے مگر اللہ تعالی نے اس میں کلام کرنے کی اجازت دی ہے" اگر طواف نماز ہے تو نماز بغیر طہارت کے جائز نہیں ہے اور ہماری دلیل باری تعالی کا یہ ارشاد گرامی ہے: " اور طواف کریں ایسے گھر کا جو بہت قدیم ہے "([4]) اللہ تعالی نے طواف کا مطلقا حکم دیا ہے طہارت کی شرط نہیں لگائی۔ کتاب اللہ کے مطلق حکم کو خبر واحد سے مقید کرنا جائز نہیں ہے۔ پس اس حدیث مبارکہ کو تشبیہ پر محمول کیا جائے گا جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: " آپکی بیویاں ان کی مائیں ہیں" یعنی ماؤں جیسی ہیں اسی حدیث مبارکہ کا معنی یہ ہوگا کہ طواف نماز جیسا ہے یا تو ثواب میں یا پر طواف زیارت کی اصل فرضیت میں۔ کیونکہ تشبیہ والے کلام میں عموم نہیں ہوتا اسے کتاب اور سنت دونوں پر عمل کرنے کیلئے کسی ایک وجہ پر محمول کریں گے۔ یا یہ کہیں گے طواف نماز کے مشابہ تو ہے لیکن حقیقۃ نماز نہیں ہے۔

چونکہ یہ حقیقۃ نماز نہیں ہے تو اس کیلئے طہارت بھی فرض نہیں ہو گی اور نماز کے مشابہ ہونے کی وجہ سے طہارت واجب ہے تاکہ بقدر ممکن دونوں دلیلوں پر عمل ہو سکے۔ جب طہارت طواف کیلئے واجب ہے تو بغیر طہارت کے طواف کرنے پر اعادہ واجب ہو گا جب تک وہ مکہ میں ہے چونکہ اعادہ میں اسی کام کی جنس سے کمی کو پورا کیا جاتا ہے اسلئے اصلاح جنس بالجنس زیادہ بہتر ہوگی۔ پھر اگر ایام نحر میں ہی اعادہ کر لیتا ہے تو اس کچھ اور واجب نہیں ہو گا اگر ایام نحر کے بعد کرتاہے تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق اس پر دم لازم ہو گا۔([5])

جمہور علماء کے نزدیک دوران طواف اگر وضو ٹوٹ جاتا ہے تو جاکر وضو کرے کیونکہ طہارت طواف کیلئے شرط ہے لیکن یہیں سے اپنے سابقہ طواف پر بنا کرے گا یا پھر دوبارہ نئے سرے سے شروع کرے گا اس بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ شوافع کا صحیح قول یہ ہے کہ اپنے سابقہ طواف بنا پر اسے پورا کرے گا نئے سرے سے شروع نہیں کرے گا بنا کا کا مطلب ہے جہاں سے وضو ٹوٹا تھا اسی جگہ سے شروع کرے گا جس چکر میں ٹوٹا تھا اس چکر اعادہ بھی نہیں کرے گا۔

امام شرینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عمدا حدث واقع کیا تو وضو کر بلکہ (وضو کی جگہ )طہارت کا لفظ زیا دہ بہتر ہے تاکہ غسل بھی اس میں شامل ہو جائے اور جس جگہ حدث واقع ہوا تھا وہیں سے طواف پورا کرے گا چاہے رکن کے پاس ہو یا نہ ہو اور ایک قول یہ ہے کہ نماز کی طرح طواف بھی نئے سرے شروع کرے گا۔ نماز اور طواف میں فرق یہ ہے کہ طواف جس چیز کا احتمال رکھتا ہے نماز اس چیز کا احتمال نہیں رکھتی۔ اگر طواف میں حدث واقع ہو جاے تو اختلاف عمد پر مرتب ہو گا اولی یہ ہے کہ اسی طواف پر بنا کرے چاہے فاصلہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو۔ اگر اس کا کپڑا، بدن یا طواف کی جگہ میں اتنی مقدار میں نجاست لگ گئی ہو جو معاف نہیں ہے یا اس کے ستر سے جسم کا حصہ ظاہر ہو جاے جیسے اگر آزاد عورت کے بال یا اس کے پاؤں کا ناخن ظاہر ہو گیا تو وہیں سے اب اس کا طواف صحیح نہیں ہو گا اور اگر مانع کو زائل کر دیا تو حدث کی طرح اسی جگہ سے بنا کرے گا جہاں مانع واقع ہوا تھا۔ فاصلہ چاہے کم ہو یا زیادہ ہو کیونکہ وضو کی طرح اس میں بھی موالاۃ یعنی فعل کا پے در پے ہونا شرط نہیں ہے کیونکہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں جن میں غیر جنس سے خلل واقع ہونا جائز ہے لیکن نماز میں ایسا جائز نہیں ہے۔

لیکن طواف دوبارہ سے شروع کرنا سنت ہو گا تاکہ قول وجوب کے اختلاف سے بچا جا سکے۔([6])

امام شروانی فرماتے ہیں: بنا کرے گا لیکن اگر بے ہوشی اور جنون طاری ہونے کی صورت میں طواف نئے سرے شروع کرے گا کیونکہ ان حالات میں انسان عبادت کا اہل نہیں رہتا۔ اور امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ " اغماء " یعنی بے ہوشی سے امام شافعی رضی اللہ عنہ کی نص خارج ہوگی اور وہ دوبارہ وضو کرے گا اور طواف بھی دوبارہ کرے گا قریب ہو یا بعید ہو یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ اس صورت میں عبادت کی اہلیت زائل ہو جاتی ہے لیکن حدث کی صورت میں نہیں ہوتی۔ اور اس سے یہ اخذ کیا جائے گا کہ اغماء کی طرح یہ حکم جنون کی صورت میں بدرجہ اولی لاگو ہو گا اور سکران نشہ چڑھنے کا حکم بھی یہی ہو گا چاہے اسے نشہ اور جنون کود اس کے اپنے فعل سے طاری ہوا ہو یا اپنے فعل سے نہیں۔([7])

مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک اگر دوران طواف حدث لاحق ہو جاے تو نئے سرے سے طواف شروع کرے گا۔ اسی طواف پر بنا نہیں کر سکتا۔

امام دردیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوران طواف اگرچہ سہوا ہی حدث لاحق ہو جاے تو بھی سابقہ طواف پر بنا کرنا باطل ہے جب بنا باطل ہے تو استئناف یعنی نئے سرے سے طواف کرنا واجب ہو گا۔ طواف چاہے واجب ہو یا نفلی ہو اور حدث عمدا لاحق ہوا ہو۔([8])

امام خرشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدث کی وجہ سے سابقہ طواف پر بنا باطل ہو گی یعنی اگر حدث دوران طواف عمدا یا سہوا لاحق ہو جاے یعنی اسے بھول گیا ہو کہ وہ طواف میں ہے یا سہو غالب آ گیا ہو تو مشہور قول کے مطابق اس کا طواف باطل ہو جائے گا اور سابقہ طواف پر بنا نہیں کرسکتا طواف چاہے واجب ہو یا نفلی ہو۔ حصول طہارت کرنے کے بعد واجب طواف دوبارہ نے سرے سےکرے گا نفلی ضروری نہیں مگر یہ کہ اس نے جان بوجھ کر حدث لاحق کیا ہو، اگر اس نے سابقہ طواف پر بنا کی تو ابن قاسم کے نزدیک گویا اس نے طواف کیا ہی نہیں لیکن ابن حبیب کا قول اس کے برخلاف ہے۔([9])

مالکیہ نے نکسیر پھوٹنےکو وجوبِ استئناف سے مستثنی کیا ہے وہ خون کو دھونےکے بعد اسی طواف پر بنا کرے گا بشرطیکہ وہ قریبی جگہ سے تجاوز نہ کرے جیسا کہ نماز میں شرط ہے اور نہ کافی دور جائے اور نہ نجاست کو روندے۔([10])

امام بہوتی رحمہ اللہ فرماتےہیں: طواف میں حدث کی صورت میں نئے سرے سے طواف شروع کرے گا چاہے جان بوجھ کر حدث کاحق کیا ہو یا نماز کی طرح پہلے وضو کیا ہو پھر ٹوٹ گیا ہو۔([11])

امام مرداوی رحمہ اللہ فرماتےہیں: اگر دوران طواف حدث لاحق ہو گیا یا اس نے لمبا وقفہ کیا تو دوبارہ شروع کرے گا اس مذہب میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ طواف میں موالاۃ شرط ہے۔([12])

مذکورہ وضاحت سے یہ بات پتا چلی کہ احناف کے نزدیک اور شوافع کے معتبر قول کے مطابق دوران طواف جسے حدث لاحق ہو جاے وہ اسی پر بنا کرے گا نئے سرے سے شروع نہیں کرے گا۔

ماکیہ اور حنابلہ کے نزدیک حدث کی صورت میں نئے سرے سے  شروع کرے گا۔ بنا اور استئناف میں علماء کے درمیان وجہ اختلاف طواف کے چکروں میں موالاۃ کا شرط ہونا ہے مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک موالاۃ شرط  وہ استئناف کے قائل ہیں کہتے ہیں کہ حدث اور وضو موالاۃ کو مانع ہیں لہذا طواف نئے سرے سے شروع کرے گا اور اور احناف اور شافعیہ کے نزدیک موالاۃ شرط نہیں وہ طواف کے سابقہ چکروں پر بنا کے قائل ہیں۔ دونوں فریقوں کے دلائل مضبوط ہیں کسی کی بھی تقلید جائز ہے، اور اسلئے بھی کہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے اس بارے میں کوئی قطعی دلیل موجود نہیں ہے۔ جن علماء نے موالاۃ کی شرط لگائی ہے ان کی دلیل نبی اکرم کا یہ فرمان ہے: " بیت اللہ کا طواف نماز ہے"([13]) اور نماز میں موالاۃ شرط ہے اور اسلئے  بھی کہ طواف بیت اللہ سے متعلق عبادت ہے اس میں موالاۃ شرط ہو گا جیسے نماز میں شرط ہے۔

جو علماء موالاۃ کی شرط کے قائل نہیں ہیں ان کی دلیل یہ فرمان باری تعالی ہے: " اور طواف کریں ایسے گھر کا جو بہت قدیم ہے "([14]) اللہ تعالی نے طواف کا حکم فرمایا ہے لیکن موالاۃ کی شرط نہیں لگائی تو یہ وقفے کی صورت میں بھی صحیح ہو اگرچہ وقفہ طویل ہی ہو اس لئے بھی کہ طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں تھوڑی سی تفریق جائز ہے تو اس کے جواز سے یہ بات لازم آئے گی کہ زیادہ تفریق کے ساتھ بھی یہ صحیح ہو جیسے کہ حج کے باقی تمام افعال ہیں۔ دونوں فریقوں کے پاس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین سے مروی دلائل بھی ہیں پس دونوں کے دلائل محل نظر ہیں۔

مذکورہ دلائل کی بنا پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر دوران طواف کسی کو حدث لاحق ہوجائے تو وضو کر کے اسی طوف پر بنا کرے نئے سرے سے شروع نہ کرے لیکن نئے سرے سے طوف کرنا مستحب ہو گا کیونکہ اس صورت میں وہ اختلاف سے بچ جاے گا اور جس نے باوضو طوف شروع کیا پھر دوران طواف حدث لاحق ہو گیا اور اس نے حدث کی صورت میں ہی طواف مکمل کر لیا اور اپنے ملک واپس چلا گیا اور اعادہ کے لئے دوبارہ بھی نہیں آسکتا تو اس کا طواف صحیح ہو گا اس صورت میں ہم احناف کی تقلید کریں گا اس لئے کہ ان کے نزدیک طہارت شرط نہیں بلکہ واجب ہے ہاں یہ بات جان لینا بھی ضروری ہے کہ سب آئمہ اس بات پر متفق ہیں کہ بے وضو طواف شروع کرنا جائز نہیں ہے۔

والله تعالى اعلم بالصواب



[1] شرح الکبیر لامام دردیر 2/32 ط دار الفکر

[2] بدائع الصنائع 2/129 دار الکتب العلمیۃ

[3] 2/281 ط عالم الکتب

[4] سورۃ الحج 29

[5] بدائع الصنائع 2/129 دار الکتب العلمیۃ

[6] مغنی المحتاج 2/244

[7] حاشیۃ علی التحفۃ 4/75 ط دار احیاء التراث العربی

[8] شرحالکبیر 2/31 ط دارلافکر

[9] شرح مختصر خلیل 2/314 ط دارالفکر

[10] شرح الکبیر 2/32 ط ۔ دار الفکر

[11] شرح المنتھی 1574 ط عالم الکتب

[12] الانصاف 4/17

[13] احمد و النسائی

[14] سورۃ الحج 29

صفحہء اول دار الافتاء کے بارے میں استفتاء ویب سائٹ کا نقشہ آپ کی رائے اور تجویزیں ہم سے رابطہ کریں